ایران کے خلاف امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیل نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے پاس میزائل حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی شدید کمی ہو رہی ہے۔
ہفتے کے روز شائع ہونے والی امریکی ویب سائٹ سیمیفور کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن کو گزشتہ کئی ماہ سے معلوم تھا کہ اسرائیل کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز کی تعداد کم ہو رہی ہے۔تاہم امریکی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو اس طرح کے مسئلے کا سامنا نہیں ہے، کیونکہ اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی کم ہو گئے ہیں۔عہدیدار نے ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس خطے میں اپنے اڈوں، اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے درکار تمام وسائل موجود ہیں۔امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیل اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف حل پر کام کر رہا ہے تاکہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ ایسے وقت میں شروع کی جب اس کے پاس پہلے ہی میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکا کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے، حالانکہ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی فوج کے ذخائر توقعات سے کم ہیں۔ابتدا میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً چار ہفتوں میں ختم ہو جائے گی اور بعد میں اسے قلیل مدتی مہم قرار دیا تھا۔ تاہم جمعہ کے روز انہوں نے کہا کہ یہ جنگ جب تک ضروری ہوا جاری رہے گی۔