نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے برونکس کے ایک رہائشی عمارت کے مالک کے خلاف تاریخی عدالتی فیصلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مالک مکان کو 21 لاکھ ڈالر سے زائد جرمانہ ادا کرنے اور عمارت کی فوری مرمت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
شہر کی جانب سے دائر مقدمے میں عدالت نے پراسپیکٹ ایونیو 919 کی عمارت کے مالک کو حکم دیا ہے کہ دو ہفتوں کے اندر شدید نوعیت کی تمام خرابیوں کو دور کیا جائے جبکہ ایک ماہ کے اندر عمارت میں موجود دیگر تمام مسائل بھی حل کیے جائیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ عمارت میں عوامی نقصان کی صورتحال برقرار رہنے کے ہر دن کے لیے ایک ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جس کی مجموعی رقم تقریباً 21 لاکھ 74 ہزار ڈالر بنتی ہے۔شہری حکام کے مطابق اس عمارت میں طویل عرصے سے سنگین مسائل موجود تھے جن میں خستہ حال بیرونی ڈھانچہ، خطرناک برقی نظام، خراب لفٹ، ناقابل استعمال بوائلر، آگ سے بچاؤ کے ناقص انتظامات اور چوہوں و لال بیگ کی موجودگی شامل ہے۔ ان مسائل کے باعث رہائشیوں کی صحت اور سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک عمارت تک محدود نہیں بلکہ پورے نیویارک کے کرایہ داروں کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رہائشی عمارتوں کے مالکان کو قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور شہریوں کو محفوظ اور باوقار رہائش فراہم کرنا لازمی ہوگا۔