vosa.tv
Voice of South Asia!

جنگی جہاز پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے حملوں کی نئی لہر

0

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیل نے بھی تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

 تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل حملوں کے بعد خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز کے حملے میں ایرانی جنگی جہاز “آئی آر آئی ایس دینا” کے ڈوبنے کے بعد امریکہ کو اس اقدام پر “سخت پچھتانا پڑے گا۔” ایرانی حکام کے مطابق جہاز پر موجود متعدد ملاح ہلاک ہوئے۔ سری لنکن بحریہ نے بتایا کہ اب تک درجنوں لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کچھ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔دوسری جانب عراق کے شمالی حصے میں موجود ایران مخالف کرد گروہوں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے ساتھ رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد کسی خاص گروہ کو مسلح کرنا نہیں بلکہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنا ہے۔پاکستان میں بھی اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی جس میں فوری جنگ بندی اور شہری علاقوں پر حملوں کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے پھیلنے سے پورا خطہ ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.