ٹرمپ انتظامیہ نے نیو جرسی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں ریاستی حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جو وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو ریاستی جیلوں اور عدالتوں کے غیر عوامی علاقوں میں گرفتاریاں کرنے سے روکتا ہے۔
عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ گورنر مکی شیرل کے ۱۱ فروری کے ایگزیکٹو آرڈر سے وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے نفاذ میں خلل ڈالنے کی کوشش ہے۔ آرڈر میں ریاستی پراپرٹی کو امیگریشن نفاذ کے لیے استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ یہ حکم امیگریشن قوانین پر عمل درآمد میں "ناقابلِ برداشت رکاوٹ” پیدا کرتا ہے اور وفاقی حکومت کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ مقدمے میں گورنر کے نام بھی غلط لکھا گیا ہے۔اس معاملے پر گورنر شیرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ریاستوں پر حملہ کرنے کے بجائے اپنے ICE ایجنٹس کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ ریاست کی عارضی اٹارنی جنرل جینیفر ڈیوورپٹ نے کہا کہ نیو جرسی اپنے وسائل ضائع کرنے والے مقدمات کے خلاف لڑتی رہے گی تاکہ ریاست کی امیگرینٹ کمیونٹیز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کی ریاستی اور مقامی سطح پر امیگریشن پابندیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال وزارت انصاف نے منیسوٹا، کولوراڈو اور بڑے شہروں جیسے نیو یارک، شکاگو، لاس اینجلس اور ڈینور کے خلاف بھی مقدمات دائر کیے تھے، جبکہ مئی میں نیو جرسی کے چار شہروں نیوارک، جرسی سٹی، پیٹرسن اور ہووبوکن کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جو ابھی زیر سماعت ہے۔