امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فضائیہ کا بی-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بوئنگ کمپنی کے دو ملازمین بھی شامل ہیں۔
یہ المناک حادثہ پیر کو جنوبی کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایک معمول کے آزمائشی مشن پر روانہ ہو رہا تھا۔ فضا میں بلند ہوتے ہی طیارہ زمین پر آ گرا اور شعلوں کی لپیٹ میں آگیا، جس سے سیاہ دھویں کے بادل دور دور تک دیکھے گئے۔ ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے کرنل جیمز ہیز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جاں بحق افراد میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ سرکاری سویلین ملازمین اور حکومتی کنٹریکٹرز بھی شامل تھے اور ابتدائی ویڈیوز کے جائزے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ اس حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کا امکان نہیں تھا۔ حکام کے مطابق یہ طیارہ بیس کے ریڈار جدید بنانے کے پروگرام کی معاونت کے لیے ٹیسٹ مشن پر تھا اور حادثہ مکمل طور پر رن وے کے علاقے تک محدود رہا جس سے کسی بیرونی علاقے کو نقصان نہیں پہنچا۔ بوئنگ کمپنی نے اپنے دو ملازمین کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہے۔ حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے میں تقریباً 30 دن جبکہ حتمی رپورٹ تیار ہونے میں چھ ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ واقعے کے بعد بیس کی تمام پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں اور غیر تجارتی زائرین کے پاس بھی اگلے حکم تک معطل کر دیے گئے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم اور امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔