vosa.tv
Voice of South Asia!

نیویارک: مبینہ امتیازی سلوک کا شکارخاتون کیڈٹ کا ساتھ دینے پرسارجنٹ مستعفی اورمسلم کیڈٹ کا کریئرختم

0


نیویارک (نیوزڈیسک)پولیس ڈیپارٹمنٹ کے کیڈٹ کورمیں مبینہ مذہبی امتیاز،نسلی تعصب ہراسانی اور انتقابی کاروائیوں کے حوالے سے دو نئے مقدمات سامنے آگئے۔ تجربہ کار پولیس سارجنٹ اورایک نوجوان مسلم کیڈٹ نے الزام لگایا کہ خاتون کیڈٹ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانے پرانھیں خود انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑگیا۔

نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک سابق مسلم پولیس کیڈٹ علی السعیدی اور ایک تجربہ کار پولیس سارجنٹ لی  ہیلٹن نے نیویارک کاؤنٹی سپریم کورٹ میں دو مقدمات  دائر کردیے جن میں کیڈٹ کور کی کمانڈنگ آفیسر کیپٹن جیورلیس الواریز،لیفٹیننٹ لائی کُوئی اور سارجنٹ جینی الونزو کوفریق بنایا  گیاہے۔

امریکی ویب سائٹ سیل گریگو کی رپورٹ کے مطابق مقدمات میں ایک خاتون کیڈٹ ڈیلن مونسلوی بلانکو کو بار بارغیر مناسب تبصروں، تضحیک اور امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ کے مطابق پولیس سارجنٹ لی ہیلٹن نےرواں سال 17 جون کو خاتون کیڈٹ کی شکایت پر محکمہ پولیس کے مساوی روزگار کے مواقع کے دفترسے رجوع کیا، جبکہ سابق مسلم کیڈٹ علی السعیدی نے بھی 20 جون کو اپنی شکایت درج کرائی۔

لی ہیلٹن کے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شکایت درج کرانے کے بعد انہیں ان کی انتظامی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا، اوور ٹائم ختم کردیا گیا، دفتر میں داخلے اور کیڈٹس سے بات چیت پر پابندی عائد کردی گئی اور ان سے ان کےعہدے کے مقابلے میں غیر موزوں نوعیت کے کام لیے جانے لگے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کے باعث وہ ماہانہ تقریباً 3 ہزار 540 ڈالر اضافی آمدنی سے محروم ہوگئے  اور بالآخر انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔دوسرے مقدمے میں سابق مسلم کیڈٹ علی السعیدی نے الزام لگایا ہے کہ وہ پولیس اکیڈمی میں داخلے کے تمام ضروری مراحل مکمل کرچکے تھے اور 22 جولائی 2026 کی اکیڈمی کلاس میں شمولیت کے لیے تیار تھے، تاہم خاتون کیڈٹ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کی شکایت کرنے کے بعد انہیں پولیس اکیڈمی میں جانے سے روک دیا گیا۔

علی السعیدی کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ پولیس کے کینڈیڈیٹ اسیسمنٹ ڈویژن نے انہیں اکیڈمی میں داخلے کے لیے مسترد کردیا ہے، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد میں متعلقہ حکام سے معلوم ہوا کہ انہیں نااہل قرار نہیں دیا گیا تھا۔علی السعیدی  نے مزید الزام لگایا گیا  کہ انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا پولیس افسر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا جبکہ محکمہ پولیس کی جانب سے  انھیں  ساڑھے 7ڈالر تعلیمی معاونت کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ بھی موصول ہوا ہے۔

علی السعیدی نے اپنے مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں مذہبی بنیادوں پر امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق انہیں داڑھی رکھنے کی تحریری مذہبی اجازت حاصل تھی، اس کے باوجود ان سے عوامی سطح پر اس حوالے سے سوالات کیے گئے اور انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے مزید مشکلات کے خدشے کے باعث داڑھی منڈوا دی۔مقدمے میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ مسلمان اور یہودی کیڈٹس کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر تربیتی اوقات، تعلیمی معطلی اور مذہبی عبادات کے لیے چھٹیوں کے معاملات میں مختلف رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔رپورٹ میں نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش اور چیف آف ٹریننگ مارٹین میٹیراسو کی انتظامی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پولیس کیڈٹ کور اور پولیس اکیڈمی دونوں ٹریننگ بیورو کے ماتحت ہیں، اس لیے محکمہ پولیس کی اعلیٰ قیادت کو وضاحت دینی چاہیے کہ امتیازی سلوک کی شکایات پر کیا تحقیقات ہوئیں اور شکایت کرنے والے کیڈٹس اور اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.