پاکستانی مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر ملیحہ علی نے جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں جاری آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔ وہ عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون فائٹر بن گئی ہیں۔
گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ ملیحہ علی نے فیدر ویٹ کی 65.8 کلوگرام کیٹیگری میں روس کی دو مرتبہ کی یورپی چیمپئن ویرونیکا ڈروزڈووا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسپلٹ ڈیسیژن کے ذریعے شکست دی۔اس کامیابی کے بعد ملیحہ نے سیمی فائنل میں میکسیکو کی اینڈریا گیبریلا گزمین کو بھی ہرا دیا، جو پین امریکن چیمپئن اور عالمی چیمپئن شپ کی سلور میڈلسٹ ہیں۔ اس فتح کے ساتھ ہی انہوں نے فائنل میں جگہ بنا کر پاکستان کے لیے ایک نیا اعزاز حاصل کر لیا۔رپورٹ کے مطابق ملیحہ نے لاہور کے بریو جم میں صرف 10 ماہ کی تربیت کے بعد یہ مقام حاصل کیا۔ انہوں نے روسی فائٹر کے خلاف مقابلے میں لگنے والی چوٹ کے باوجود اگلی فائٹ میں شرکت کی اور کامیابی حاصل کی۔پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے مطابق روسی ٹیم کو بھاری مالی وسائل اور 60 سے زائد ایتھلیٹس کی معاونت حاصل تھی، جبکہ پاکستانی ٹیم نے محدود وسائل اور نجی اسپانسرشپ کے باوجود یہ اہم سنگِ میل عبور کیا۔