نیویارک سٹی کے شہریوں نے ووٹنگ کے ذریعے سٹی حکومت کے کام کی رفتار بڑھانے سے متعلق پانچوں بیلٹ تجاویز منظور کر لی ہیں، جس پر میئر ظہران ممدانی نے شہریوں کو سراہا ہے۔
میئر آفس کے مطابق یہ تجاویز کمیشن آن گورنمنٹ ایفیشنسی نے تیار کی تھیں، اور ہر تجویز کے حق میں 10 لاکھ سے زائد شہریوں نے ووٹ دیا۔ میئر ممدانی نے کہا کہ ان اقدامات سے غیر ضروری سرکاری رکاوٹیں ختم ہوں گی، جس سے شہریوں کو مہنگائی کے مسئلے میں مدد ملے گی۔ پہلی تجویز کے تحت آؤٹ ڈور ڈائننگ کی درخواست کے عمل کا دورانیہ 8 ماہ سے کم کر کے 2 ماہ کر دیا جائے گا، جس سے چھوٹے کاروبار کو 1,800 ڈالر تک کی بچت ہو گی، جبکہ معذور افراد کے لیے ریمپس اور لفٹس کی منظوری بھی 2 ماہ جلد ہو سکے گی۔ دوسری تجویز کے مطابق سٹی حکومت کے ساتھ کام کرنے والے چھوٹے کاروبار اور غیر منافع بخش اداروں کے معاہدوں کا عمل 30 دن تک تیز ہو جائے گا۔ تیسری تجویز سے بائیک لینز سمیت اسٹریٹ سیفٹی منصوبے کم از کم 33 فیصد جلد مکمل ہو سکیں گے، جبکہ سرپلس زمین اور فضائی حقوق کی فروخت سے سٹی کو 200 ملین ڈالر سے زائد آمدن ہو سکتی ہے۔ چوتھی تجویز کے تحت تعمیراتی اجازت نامے کا نظام سادہ کیا جائے گا، جس میں 18 مختلف دفاتر اور اداروں کی 40 منظوریاں ایک جگہ پر لائی جائیں گی تاکہ ہاؤسنگ کے منصوبے جلد شروع ہو سکیں۔ پانچویں تجویز کے مطابق سٹی کے لیے ٹیکس آمدن کا 12 فیصد حصہ بطور محفوظ بچت رکھنے کا ہدف مقرر کیا جائے گا۔