سائنس دانوں نے دماغی سرطان کے علاج میں ایک نئی اورامید افزا تکنیک تیار کی ہے،جو مستقبل میں دماغی سرطان کے علاج میں اہم پیش رفت کی توقع ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے کمپریہینسیو کینسر سینٹر کے محققین نے خصوصی جینیاتی مالیکیولز، نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ کی مدد سے یہ طریقہ تیار کیا ہے۔تحقیق کے مطابق نئی تکنیک دماغ کی حفاظتی رکاوٹ کو عارضی طور پرعبور کرکے علاج کو براہ راست سرطان زدہ خلیوں تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ کے مطابق یہ طریقہ بیک وقت سرطان کی افزائش میں کردار ادا کرنے والے متعدد جینیاتی عوامل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس تحقیق کو مستقبل میں کلینیکل ٹرائلز تک پہنچایا جائے گا جس سے گلیوبلاسٹوما اور دماغی رسولیوں کے دیگر مریضوں کے علاج کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔تاہم یہ طریقہ تاحال تجرباتی مرحلے میں ہے اور مریضوں پر اس کی افادیت ثابت ہونا باقی ہے۔