ڈیلیس:پاکستان عالمی ٹیک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت اور سپرانٹیلی جنس کے شعبوں میں کیا پیش کرسکتا ہے؟
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات قائم کرنا کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔وہ ڈیلس میں منعقدہ “پاک‑یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
پاکستان قونصلیٹ جنرل ہیوسٹن کے تعاون اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور اوپن گلوبل کے اشتراک سےڈیلس میں منعقدہ “پاک‑یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026” کا انعقاد کیا گیا۔سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب کا آغاز شرکاء اور پی ایس ای بی کے سی ای او فیصل جیدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات قائم کرنا کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ٹیک کنیکٹ میں ابیکس، آر بی سافٹ، ایڈو اے آئی، نیکسٹ برج اور ایمومبا سمیت متعدد معروف آئی ٹی کمپنیوں نے امریکی کاروباری حلقوں کے سامنے اپنی خدمات اور مصنوعات پیش کیں۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے بتایا کہ یہ ایونٹ کی سیریز کا تیسرا ایڈیشن ہے، جو تین سال قبل سلیکون ویلی سے شروع ہوا تھا۔ اس سال کی سرگرمیاں 16 اکتوبر کو سلیکون ویلی سے آغاز ہوئیں اور اس کے بعد ڈیلس، واشنگٹن ڈی سی اور دیگر امریکی شہروں میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور امریکی کاروباری اداروں کے درمیان متعدد ملاقاتیں اور ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ اس سلسلے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر موجودہ اور مستقبل کے آئی ٹی کھلاڑیوں کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔ سفیر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی رفتار سپرسونک ہے اور مصنوعی ذہانت کے تازہ ترین حل سپر انٹیلی جنس کی طرف گامزن ہیں، جس کے پیش نظر امریکی مارکیٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی سروس برآمدات کا تقریباً 60 سے 62 فیصد حصہ اسی مارکیٹ کو جاتا ہے۔
سفیر نے آئندہ دس سے بارہ سالوں میں پاکستان کی آبادی کے عالمی مقام کے بارے میں بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی 60 سے 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور یہ نوجوان ہی پاکستان کی سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اس نوجوان افرادی قوت اور امریکی مارکیٹ کی جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کے امتزاج سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔ سفیر نے زور دیا کہ دنیا کے پانچ بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہونے کے ناطے پاکستان اور امریکہ کے درمیان فطری تکمیل موجود ہے، جو صرف آئی ٹی تک محدود نہیں۔ اس لئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات کو برقرار رکھنا انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ لازمی قدم ہے۔
اس سال ایونٹ کا فارمیٹ پچھلے دو ایڈیشنز سے مختلف رکھا گیا۔ امریکی کارپوریٹ سیکٹر کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ پاکستانی کمپنیوں کی ملاقات ایسے امریکی اداروں سے ہو جو مستقبل میں تجارتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ منتخب کمپنیوں میں سے بیشتر پہلے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں سرگرم ہیں۔ سفیر نے واضح کیا کہ اس نئے طریقۂ کار کا مقصد صرف کمپنیوں کا تعارف نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ پاکستان تیزی سے بدلتی عالمی ٹیک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت اور سپر انٹیلی جنس کے شعبوں میں کیا پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے انکساری سے کہا کہ وہ سفارت کار ہیں، ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں، لیکن اس ایونٹ کے ذریعے پاکستان کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا ان کا مقصد ہے۔
سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق، مستقبل میں مزید ایسے ایونٹس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ پاکستانی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور بڑی کمپنیوں کو عالمی سرمایہ کاروں اور امریکی ٹیکنالوجی لیڈرز کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع ملے۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کی بنیاد بھی مستحکم ہوگی۔