امریکی اہلکاروں کامسلمان رکنِ کانگریس الہان عمرکےگھرپرچھاپہ، امیگریشن دستاویزات کی تحقیقات
نیویارک (نیوزڈیسک)امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر پر وفاقی تحقیقاتی اہلکاروں نے چھاپہ مارا ہے۔یہ کارروائی امیگریشن سے متعلق دستاویزات میں مبینہ دھوکا دہی کے معاملے کی فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔
روئیٹرز کے مطابق، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے پیر کی صبح واشنگٹن ڈی سی میں الہان عمر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی۔زیرِ تفتیش معاملے کا تعلق ان امیگریشن دستاویزات سے بتایا جا رہا ہے جو الہان عمر کےوالد نےان کے بچپن میں مکمل کی تھیں۔ ان کے والد اب وفات پا چکے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان کے مطابق، وفاقی اہلکاروں نے محکمے کی جانب سے حاصل کردہ اور عدالت سے منظور شدہ سرچ وارنٹ کے تحت گھر کی تلاشی لی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائی جاری وفاقی تحقیقات کا حصہ ہے۔ تاہم، حکام نے تحقیقات کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔الہان عمر کے دفتر نے اس کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ ان کے دفتر نے چھاپے کو اختیارات کے غلط استعمال اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب، حکام نےتلاشی اور تحقیقات کے سیاسی محرکات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ پیش نہیں کیا۔الہان عمر صومالی نژاد امریکی سیاست دان ہیں اور ریاست منی سوٹا کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن ہیں۔ وہ انسانی حقوق، نسلی امتیاز اور اسلاموفوبیا کے معاملات پر اپنے مؤقف کے باعث نمایاں رہی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں الہان عمر پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ان کے سیاسی اختلافات اور حالیہ تلاشی کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اس معاملے میں مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔