امریکا نے اسمگل اور چوری شدہ لاکھوں ڈالر مالیت کی نایاب اور قیمتی نوادرات باضابطہ طور پر حکومت ِ پاکستان کے حوالے کردی ہیں۔
پاکستان سے اسمگل کی گئیں اور چوری شد ہ قیمتی نوادرات واپس مل گئیں ۔نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں باضابطہ تقریب منعقد کی گئی جس میں اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کے سربراہ کرنل میتھیو بوگڈانوس اور دیگر عملے نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کو نوادرات کی واپسی سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نوادرات کی واپسی کا یہ ساتواں مرحلہ ہے۔ اب تک ہم ساڑھے پانچ سو قیمتی نوادرات واپس کر چکے ہیں۔ ہمارے سامنے موجود یہ نوادرات بظاہر بہت چھوٹے ہیں، اور شاید ایک غیر ماہر شخص کو زیادہ نمایاں بھی نہ لگیں،لیکن یہ نوادرات یونانی اور مصری تہذیب سے بھی قدیم ہیں۔۔اس موقع پر عامر احمد اتوزئی نےوزیر اعظم ، صدرِ مملکت اور پاکستانی عوامی کی طرف سے مین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اوراینٹی ٹریفکنگ یونٹ سے اظہارِ تشکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں، یہ صرف پاکستان کی ملکیت نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔دنیا بھر کے لوگوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ان نوادرات کو دیکھیں، ان سے لطف اندوز ہوں، ان کا مطالعہ کریں، ان پر تحقیق کریں اور انہیں اپنی علمی و ثقافتی دلچسپی کے لیے دیکھ سکیں۔تقریب میں پاکستان قونصلیٹ کا عملہ بھی شریک تھا۔اس موقع پر نایاب و قیمتی نوادرات کی واپسی اور وصول کرنے سے متعلق دستاویزات پر دستخط بھی کیے گئے ۔