اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تاریخی معاہدے کی دستخطی تقریب کے مقام میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جبکہ اس اہم سفارتی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب پہلے جنیوا میں منعقد ہونا تھی، تاہم اب اسے 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے برجن اسٹاک ریزورٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ سوئس حکام کا کہنا ہے کہ نئے مقام کا انتخاب سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف جنیوا روانہ ہوں گے، جبکہ ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اہم وفاقی وزرا بھی موجود ہوں گے۔ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار باقر قالیباف کریں گے۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تقریب میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر دستخطی تقریب میں شریک ہوں گے اور جلد معاہدے کی مکمل تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائیں گے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق معاہدے کے ابتدائی مرحلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ساٹھ روز کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سمیت اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ادھر خطے میں کشیدگی میں کمی کے آثار بھی سامنے آئے ہیں اور ایران کے پانچ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزر گئے ہیں، جسے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔