امریکا میں H-1B ویزا ملازمین کی کم از کم تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کی تجویز
امریکی حکومت نے مقامی ملازمین کے تحفظ اور غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کی بھرتیوں کے نظام میں تبدیلی کے لیے H-1B ویزا پروگرام کے تحت کم از کم تنخواہوں میں تقریباً 30 فیصد اضافے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری منصوبے کے مطابق مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کے لیے مقرر چار تنخواہی درجات کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ کمپنیوں کو کم اجرت پر غیر ملکی ملازمین رکھنے سے روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی کارکنوں کے روزگار اور تنخواہوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔رپورٹ کے مطابق نئی تجویز کے تحت ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مالیات اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں H-1B ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے کمپنیوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور امریکا میں غیر ملکی ہنر مند کارکنوں پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ H-1B ویزا پروگرام میں سب سے زیادہ حصہ بھارتی پیشہ ور افراد کا ہے۔امریکی حکام کے مطابق مجوزہ تبدیلیوں پر عوامی رائے لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔