نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، نیویارک میں خسرے کی وبا کے دوران ایک بچہ چل بسا، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد ریاست میں اس بیماری سے منسلک پہلی موت ہے۔ نیویارک اور پنسلوانیا سمیت مختلف علاقوں میں خسرے کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے ویکسینیشن اور ہنگامی اقدامات تیز کردیے ہیں۔
امریکا میں کئی دہائیوں بعد خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز نے محکمہ صحت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، جبکہ نیویارک سے ایک بچے کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیویارک کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ لیوس کاؤنٹی میں ایک بچے کی موت خسرے کی جاری وبا سے منسلک ہے۔
ریاست میں 30 سال سے زائد عرصے کے دوران خسرے سے منسلک یہ پہلی موت ہے۔حکام کے مطابق 24 اکتوبر تک نیویارک میں خسرے کے 178 کیسز رپورٹ ہوچکے تھے، جن میں سے 170 ریاست کے دیگر علاقوں جبکہ 8 نیویارک سٹی میں سامنے آئے۔دوسری جانب پنسلوانیا میں بھی صورتحال تشویش ناک ہے، جہاں رواں سال خسرے کے ایک ہزار 433 کیسز اور بیماری سے منسلک پانچ اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، یعنی سی ڈی سی کے مطابق رواں سال ملک بھر میں خسرے سے منسلک تین اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔وبا پر قابو پانے کے لیے نیویارک کا محکمہ صحت مقامی اداروں کے ساتھ مل کر حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے افراد کی ویکسینیشن اور نئے کیسز کی نشاندہی کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
سی ڈی سی نے بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماہرین نیویارک بھیجے ہیں، جو مقامی حکام کے ساتھ مل کر وبا کی روک تھام میں معاونت کررہے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، جو متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے پھیل سکتی ہے۔ اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ خسرہ، ممس اور روبیلا یعنی ایم ایم آر ویکسین ہے۔امریکی حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی ویکسینیشن کا ریکارڈ چیک کریں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔