امریکی ریاست مینیسوٹا میں وبا کے دوران غریب بچوں کو کھانا فراہم کرنے کے جھوٹے دعوؤں پر لاکھوں ڈالر کا فراڈ کرنے والے سلیم سعید کو 30 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
حکام کے مطابق سعید منیاپولس میں صومالی کھانوں کے ریستوران "سفاری” کے مالک تھے، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے کھانوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر ادائیگیاں وصول کیں۔ حکومت کے مطابق سعید 44 ملین ڈالر کے فراڈ کے ذمہ دار تھے، جس میں سے کچھ حصہ ان کے بھرتی کردہ دیگر افراد نے بھی کیا۔ استغاثہ کے مطابق سعید روزانہ 6 ہزار کھانوں کی تقسیم کا جھوٹا دعویٰ کرتے تھے، جبکہ ایف بی آئی کے کیمروں میں روزانہ صرف 40 افراد کھانا لیتے دکھائی دیے۔ سعید نے ٹرائل کے دوران الزامات کی تردید کی تھی، تاہم سزا کے موقع پر ندامت کا اظہار کیا۔ حکام کے مطابق سعید نے فراڈ کی رقم سے 1.2 ملین ڈالر کا گھر، تجارتی جائیداد اور 87 ہزار ڈالر کی پک اپ ٹرک خریدی تھی۔ سعید کو 2025 میں "فیڈنگ آور فیوچر” نامی تنظیم کی سربراہ ایمی باک کے ساتھ مجرم قرار دیا گیا تھا، جنہیں 42 سال قید اور 242 ملین ڈالر واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔