vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکہ میں3.4ملین ڈالرکامیڈیکیڈ فراڈ،شوہرکو18سال تک قیدکی سزا

0

نیویارک (نیوزڈیسک) میڈیکیڈ پروگرام کے تحت 3.4 ملین ڈالر سے زائد کے فراڈ کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیو ونڈسر کے رہائشی روہیل راجہ کو چھ سے اٹھارہ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ شرما عالم کو چھ ماہ قید اور پانچ سال پروبیشن کی سزا دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق، اس کیس میں دو میڈیکل ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے مجموعی طور پر 3.4 ملین ڈالر کی غیر قانونی ادائیگی حاصل کی گئی۔نیویارک اسٹیٹ کمپٹرولر تھامس ڈی ناپولی اور اورنج کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈیوڈ ہوولر کے مطابق، روہیل راجہ نے  رقم کی چوری کے الزام میں اپنا جرم تسلیم کیا تھا۔ ان کی اہلیہ شرما عالم نے اس سے قبل سازش کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق، دونوں میڈیکیڈ ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں، یونیک کلاس لیمو انکارپوریشن اور ایس این آر لیمو انکارپوریشن، کے ذریعے ایسے سفری اخراجات کے بل جمع کرائے گئے جن میں بعض مریضوں کے طبی مراکز جانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ بعض بلوں میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مریضوں کو الگ الگ گاڑیوں یا سفروں کے ذریعے طبی مراکز پہنچایا گیا، جبکہ حقیقت میں متعدد مریضوں کو ایک ہی سفر میں لے جایا گیا تھا۔ اس کے باوجود ہر مریض کے لیے الگ سفر کی ادائیگی طلب کی گئی۔سرکاری ریکارڈ اور طبی مراکز کے ڈیٹا کا موازنہ کرنے کے بعد نیویارک اسٹیٹ کمپٹرولر کے دفتر نے فارنزک آڈٹ کیا، جس سے اس مبینہ فراڈ کا پتا چلا۔

حکام کے مطابق، یہ معاملہ 15 اپریل 2020 سے 30 ستمبر 2024 کے درمیان جمع کرائے گئے بلوں سے متعلق ہے۔عدالتی کارروائی کے مطابق، روہیل راجہ کو چھ سے اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ شرما عالم کو چھ ماہ قید اور پانچ سال پروبیشن کی سزا ملی۔دونوں نے سزا کے موقع پر 4 لاکھ ڈالر بطور ادائیگیِ تلافی جمع کرائے۔ اس کے علاوہ مزید 3.4 ملین ڈالر واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔اس کیس میں دونوں کمپنیوں نے بھی اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ یونیک کلاس لیمو نے 2.66ملین ڈالر کی غیر قانونی بلنگ تسلیم کی، جبکہ ایس این آر لیمو نے 0.786 ملین ڈالر کی رقم تسلیم کی۔ دونوں کمپنیوں پر پانچ پانچ ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

اورنج کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے مطابق، یہ ان کے دفتر کی جانب سے اب تک چلائے جانے والے سب سے بڑے میڈیکیڈ فراڈ مقدمات میں سے ایک ہے۔اس کیس کی مشترکہ تحقیقات میں ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس، نیویارک اسٹیٹ کمپٹرولر کا دفتر، اورنج کاؤنٹی شیرف آفس اور وائٹ کالر کرائمز ٹاسک فورس شامل تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.