vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی محکمہ ہوم لینڈسکیورٹی کے40 ہزارسےزائد ملازمین کاڈیٹا لیک

0

نیویارک(نیوزڈیسک) امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ہزاروں ملازمین کا ڈیٹا لیک ہوگیا، جس میں نگرانی اور خفیہ کارروائیوں سے وابستہ اہلکاروں کی معلومات بھی شامل ہیں۔ حکام نے ممکنہ سائبر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

امریکا میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے چالیس ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈیٹا لیک کرنے والی ویب سائٹ ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس نے بدھ، اٹھائیس اکتوبر کو یہ معلومات جاری کرنے کا اعلان کیا۔لیک ہونے والے ڈیٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اور سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی سمیت محکمے کے مختلف اداروں کے ملازمین کے نام، فون نمبر، ای میل پتے اور عہدوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ بعض ریکارڈز سے خصوصی کارروائیوں، نگرانی، کمپیوٹر فرانزکس اور خفیہ سرگرمیوں سے وابستہ اہلکاروں کی ذمہ داریوں کا بھی پتا چلتا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ممکنہ ڈیٹا لیک سے آگاہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتِ حال سے نمٹنے اور ملازمین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق، اس نے لیک ہونے والے ڈیٹا میں شامل چھ ملازمین کی ذاتی معلومات کا دیگر ریکارڈ سے موازنہ کیا، جبکہ تین ملازمین سے براہِ راست رابطے کے ذریعے بعض تفصیلات کی تصدیق بھی کی۔ تاہم خبر رساں ادارہ پورے ڈیٹا کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔رپورٹ کے مطابق، یہ ایک ماہ کے دوران امریکی سرکاری اداروں سے متعلق سامنے آنے والا تیسرا بڑا ڈیٹا لیک ہے۔

 ڈیٹا لیک کرنے والے گروپ کا دعویٰ ہے کہ معلومات محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے زیرِ استعمال اوکتا سائن اِن سروس سے حاصل کی گئیں، تاہم رائٹرز اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ اوکٹا نے کہا ہے کہ اس کے نظام میں کسی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں ملا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.