امریکی اپیل عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں کیلیفورنیا کو 20 ہزار متنازع بیلٹس گننے سے روکنے کا کہا گیا تھا۔
حکام کے مطابق نویں سرکٹ اپیل کورٹ نے 2-1 کے فیصلے سے معاملہ وفاقی ڈسٹرکٹ جج کو واپس بھیج دیا، جس سے وفاقی حکومت کے پاس 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے کیلیفورنیا کو ووٹ الگ کرنے پر مجبور کرنے کیلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ جج گیبریل سانچیز نے لکھا کہ یہ ہنگامی صورتحال دراصل خود وفاقی حکومت کے فیصلوں کا نتیجہ ہے، جس نے انتخابات سے عین قبل مقدمہ دائر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اس مرحلے پر بیلٹس الگ کرنا کیلیفورنیا کے انتخابی قوانین کو بدل دے گا اور "انتخابی افراتفری” کو جنم دے گا۔ ٹرمپ کے نامزد کردہ جج مارک بینیٹ نے بھی کہا کہ وفاقی حکومت کے دلائل قانون کی بنیاد پر کمزور ہیں۔ البتہ ٹرمپ کے نامزد کردہ جج پیٹرک بوماتے نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وفاقی قانون کیلیفورنیا کو ممکنہ غیرقانونی ووٹوں کو جائز ووٹوں کے ساتھ ملانے سے روکتا ہے۔