امریکا میں 6 عام شہریوں نے صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس سے میڈیا اداروں پر پابندی سے عوام کا آزادانہ خبروں تک رسائی کا حق متاثر ہو رہا ہے۔
نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی وکیل کیٹی فیلو کے مطابق پہلی ترمیم عوام کے یہ جاننے کے حق کا تحفظ کرتی ہے کہ ان کی حکومت کیا کر رہی ہے، اور وائٹ ہاؤس تنقیدی رپورٹنگ کی سزا دے کر یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ امریکی شہریوں کو کیا معلومات ملیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بیان میں کہا کہ کسی کو بھی اوول آفس تک رسائی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔ مقدمے کے مطابق 6 مدعیان میں انسانی حقوق کے کارکن، سیاسی صحافی، ییل یونیورسٹی کی پروفیسر، ہائی اسکول کے سوک ٹیچر، قانونی صحافی اور پنسلوینیا یونیورسٹی کا طالب علم صحافی شامل ہیں، جو اپنے کام کیلئے وائٹ ہاؤس کی متنوع رپورٹنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی پالیسی کو غیرآئینی قرار دے اور اسے نافذ کرنے سے روکے۔ واضح رہے کہ سی این این، ایم ایس ناؤ، پولیٹیکو اور ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت کئی میڈیا ادارے پہلے ہی اسی نوعیت کے مقدمات میں وائٹ ہاؤس کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔