امریکی اپیل کورٹ کے ججوں نے کیلیفورنیا کے 20 ہزار میل اِن بیلٹس روکنے کے محکمہ انصاف کے مطالبے کے وقت، آئینی حیثیت اور اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
حکام کے مطابق محکمہ انصاف نے الزام لگایا تھا کہ کیلیفورنیا نے ان 20 ہزار افراد کی شہریت کی تصدیق کیلئے 48 گھنٹے کی مقررہ مدت میں جائزہ نہیں لیا جنہیں وفاقی حکومت ممکنہ غیرشہری قرار دیتی ہے۔ محکمہ انصاف کے وکیل میتھیو ڈونیلی نے کہا کہ کیلیفورنیا اپنے ہی ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرشہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دے کر ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ ٹرمپ کے نامزد کردہ جج مارک بینیٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا اپیل کورٹ کے پاس نچلی عدالت کے فیصلے سے پہلے اس کیس کی سماعت کا اختیار بھی ہے یا نہیں۔ جج گیبریل سانچیز نے پوچھا کہ آیا وفاقی حکومت دسویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کو وفاقی قانون نافذ کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ لاس اینجلس کاؤنٹی کلرک کے وکیل سیٹھ ویکسمین نے کہا کہ وفاقی حکومت کی فہرست ناقابل اعتماد ہے، اور بیلٹس کو الگ کرنے کے عمل سے ہزاروں اہل ووٹرز کا حق رائے دہی متاثر ہوگا، کیونکہ 27 لاکھ 50 ہزار میل اِن بیلٹس کی جانچ میں تقریباً 16 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ کیلیفورنیا سیکرٹری آف اسٹیٹ کے وکیل سیم سیگل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے شبہات کی حمایت میں کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا۔ جج پیٹرک بوماتے نے کہا کہ ہنگامی حکم کے بغیر حقیقت جاننا ممکن نہیں ہوگا، اور پینل جلد از جلد فیصلہ جاری کرنے کی کوشش کرے گا۔