نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی کھیلوں میں شرکت کا معاملہ اب قانون سازوں سے نکل کر براہِ راست ووٹرز کے پاس پہنچ گیا۔ کولوراڈو اور واشنگٹن میں مجوزہ پابندیوں کے حامی اسے کھیلوں میں منصفانہ مقابلے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ٹرانس جینڈر بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ڈیموکریٹ جماعت کا مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں کولوراڈو اور واشنگٹن میں ٹرانس جینڈر لڑکیوں کے اسکول کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی سے متعلق تجاویز ووٹنگ کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ ان ریاستوں کے منتخب نمائندے اس سے پہلے ایسی پابندیوں کی مخالفت کرچکے ہیں، تاہم کارکنوں نے عوامی اقدام کے ذریعے یہ معاملہ ووٹرز تک پہنچا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا کی 27 ریاستوں میں پہلے ہی ٹرانس جینڈر خواتین اور لڑکیوں کی خواتین کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی کے قوانین موجود ہیں۔ کوئنی پیاک یونیورسٹی کے جون میں کیے گئے سروے میں تقریباً 70 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ ٹرانس جینڈر خواتین اور لڑکیوں کو خواتین کی کھیلوں کی ٹیموں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ ڈیموکریٹ ووٹرز اس معاملے پر منقسم ہیں۔پابندی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے لڑکیوں کے لیے منصفانہ مقابلے اور کھیلوں کے الگ مواقع برقرار رہیں گے۔ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر لڑکیوں کو کھیلوں سے خارج کرنا امتیازی سلوک ہے۔
ماہرین کے مطابق، ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کے ممکنہ مسابقتی فائدے پر عمر، کھیل کی نوعیت، بلوغت اور ہارمون تھراپی جیسے عوامل اثر انداز ہوسکتے ہیں۔واشنگٹن میں مجوزہ اقدام کے تحت کھلاڑیوں کی حیاتیاتی جنس کی تصدیق کے لیے طبی فراہم کنندہ کو تولیدی اعضا، جینیاتی ساخت یا قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں سے ایک یا زیادہ بنیادیں استعمال کرنا ہوں گی۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل آسان ہوسکتا ہے، جبکہ مخالفین کو خدشہ ہے کہ اس سے غیر ضروری طبی معائنے اور اخراجات بڑھیں گے۔یہ معاملہ دیگر ریاستوں میں بھی زیرِ بحث ہے۔ ایریزونا میں موجودہ پابندی کو نجی اسکولوں تک بڑھانے، جبکہ نیبراسکا میں متعلقہ قانون کو ریاستی آئین کا حصہ بنانے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔