vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں ایچ ون بی ویزارکھنے والوں کی جانچ سخت ہونےکا امکان،مصنوعی ذہانت سے ریکارڈ میں تضادات کی نشاندہی متوقع

0

نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں ایچ ون بی ویزا رکھنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ حکام مصنوعی ذہانت کے ذریعے رہائشی پتے اور ملازمت کی جگہ سے متعلق معلومات میں تضادات کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔

امریکی قانونی فرم وومبل بانڈ ڈکنسن کے مطابق، امیگریشن حکام مصنوعی ذہانت کی مدد سے سابقہ اور نئی درخواستوں میں درج معلومات کا موازنہ کرکے ممکنہ تضادات سامنے لاسکتے ہیں۔ اس میں ملازم کے رہائشی پتے اور آجر کی جانب سے ایچ ون بی ویزا درخواست میں درج کام کی جگہ کی تفصیلات شامل ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اگر کوئی ملازم گھر تبدیل کرنے کے بعد امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کو فارم اے آر الیون کے ذریعے نئے پتے کی اطلاع دے، جبکہ آجر کام کی جگہ تبدیل ہونے پر ویزا درخواست میں ترمیم کرے، تو دونوں ریکارڈز میں مطابقت اہم ہوگی۔ اسی طرح گھر منتقل ہونے کے باوجود نئے پتے کی اطلاع نہ دینا بھی تضاد پیدا کرسکتا ہے۔یہ معاملہ خاص طور پر گھر سے کام کرنے والے یا ملازمت برقرار رکھتے ہوئے دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد کے لیے اہم ہے۔

 گھر کا پتہ تبدیل کرنے اور ملازمت کی مجاز جگہ تبدیل کرنے کے تقاضے الگ ہیں، اس لیے حالات کے مطابق آجر کو ویزا درخواست میں ترمیم یا نئی لیبر کنڈیشن ایپلی کیشن جمع کرانے کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔رپورٹ میں بھارتی پیشہ ور افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ درخواستوں میں تاریخوں، پتے یا ملازمت کی جگہ سے متعلق فرق سامنے آنے پر وضاحت طلب کی جاسکتی ہے، خواہ یہ فرق دانستہ غلط بیانی کے بجائے انتظامی غلطی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔

قانونی فرم کے مطابق، ملازمین کو پتے کی تبدیلی سے متعلق اطلاع بروقت دینی چاہیے، جبکہ آجروں کو ملازمت کی جگہ میں تبدیلی اور سابقہ درخواستوں کا ریکارڈ درست رکھنا چاہیے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی تضاد کی نشاندہی بذاتِ خود فراڈ یا امیگریشن قانون کی خلاف ورزی ثابت نہیں کرتی، بلکہ اس کے لیے متعلقہ حالات اور دستاویزات کا جائزہ ضروری ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.