میئر زہران ممدانی نے پورٹ رچمنڈ ٹریٹمنٹ پلانٹ میں 1976 میں محفوظ کیا گیا ٹائم کیپسول کھلوا کر ساتھ ہی 185 ملین ڈالر کی لاگت سے پلانٹ کی جدید کاری کا کام شروع کردیا۔
حکام کے مطابق 1953 سے کام کرنے والی یہ سہولت اسٹیٹن آئی لینڈ کے نارتھ شور میں تقریباً 2 لاکھ رہائشیوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ 1970 کی دہائی میں سابق میئر ابراہام بیم کے دور میں اس پلانٹ کی 165 ملین ڈالر کی توسیع کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق نئی سرمایہ کاری سے برقی تنصیبات اور مکینیکل کمرے جدید بنائے جائیں گے، جبکہ دیواروں اور کھڑکیوں کو سیلاب سے تحفظ کیلئے مضبوط کیا جائے گا۔ محکمہ ماحولیاتی تحفظ ڈیزائن بلڈ طریقہ کار سے یہ منصوبہ 4 سال سے کم عرصے میں مکمل کرے گا، جو معمول سے 40 فیصد تیز ہے، اور تکمیل کا ہدف 2029 کی گرمیوں میں رکھا گیا ہے۔ میئر ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے دریاؤں اور بندرگاہوں میں وہیل اور ڈولفن کی واپسی کئی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے، اور یہ پیش رفت رکنے کی نہیں بلکہ مزید کام کرنے کی وجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹائم کیپسول میں سابق میئر بیم کا 2026 کے میئر کے نام ایک خط بھی ملا، جس میں انہوں نے شہریوں کیلئے صاف ماحول کی امید ظاہر کی تھی۔ حکام کے مطابق 1970 کی دہائی سے قبل شہر روزانہ تقریباً 20 کروڑ گیلن غیرصاف شدہ سیوریج آبی گزرگاہوں میں بہا دیتا تھا، تاہم آج محکمہ ماحولیاتی تحفظ کے 14 پلانٹس روزانہ 1.3 ارب گیلن فضلہ صاف کرتے ہیں۔