vosa.tv
Voice of South Asia!

ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں سےامریکامیں قانونی امیگریشن نصف رہ گئی

0

نیویارک (نیوزڈیسک)امریکا میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔ نئی ویزا پابندیوں کے باعث قانونی امیگریشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جنوبی ایشیا میں امیگرنٹ ویزوں کا اجرا بھی63 فیصد کم ہوگیا، جبکہ طلبہ، ملازمین اور سیاحوں کے ویزوں پر بھی اثر پڑا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی امیگریشن پابندیوں کے باعث امریکا میں قانونی امیگریشن کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہندستان ٹائمز کے مطابق، نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ فروری2026 میں امریکا نے تقریباً26 ہزار امیگرنٹ ویزے جاری کیے، جبکہ ٹرمپ کی واپسی سے پہلے ماہانہ اوسط 52 ہزار تھی

رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اواخر اور 2026 کے آغاز میں متعارف کرائی گئی پابندیوں نے 91 ممالک کے درخواست گزاروں کے لیے امیگریشن کا عمل مشکل بنا دیا، جبکہ مزید61 ممالک کے شہریوں کو جاری کیے جانے والے امیگرنٹ ویزوں کی تعداد بھی کم ہوئی۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد سکیورٹی چیکنگ کو سخت کرنا اور یہ اندازہ لگانا ہے کہ درخواست گزار مستقبل میں سرکاری امداد پر انحصار تو نہیں کریں گے۔

علاقائی اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیا میں امیگرنٹ ویزوں کے اجرا میں63 فیصد، افریقہ میں89 فیصد اور مشرق وسطیٰ میں 81 فیصد کمی ہوئی۔ اس کے برعکس کینیڈا اور میکسیکو کے شہریوں کو جاری کیے جانے والے امیگرنٹ ویزوں میں بالترتیب142 اور 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کے اثرات صرف مستقل سکونت کے ویزوں تک محدود نہیں رہے۔ فروری2026 میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں طلبہ اور کارکنوں کے ویزوں میں30 فیصد، جبکہ سیاحتی اور کاروباری ویزوں میں تقریباً25 فیصد کمی ہوئی۔

امیگریشن پالیسیوں کو وفاقی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا گیا، اور رپورٹ کے مطابق اگست کے اختتام پر دو الگ مقدمات میں عدالتوں نے حکومت کو ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا، تاہم متعدد درخواست گزاروں کو اس کے باوجود انتظار کرنا پڑا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.