نیویارک میں386سستےگھرتیار،2000خاندانوں کوفائدہ
نیویارک (نیوزڈیسک) رہائشی بحران سے پریشان خاندانوں کے لیے میئر ظہران ممدانی اور نیویارک اسٹیٹ کی گورنر کیتھی ہوکل نے بروکلین کے علاقے ایسٹ نیویارک میں ایک بڑے سستے رہائشی منصوبے، انوویٹو اربن ویلج، کے پہلے مرحلے کا افتتاح کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 386 مستقل سستے گھر مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 453 اپارٹمنٹس اور ایک جدید چائلڈ کیئر سینٹر تعمیر کیا جا رہا ہے۔لیکن اس منصوبے کی خاص بات صرف سستے گھر نہیں، بلکہ ایک مکمل کمیونٹی کی تعمیر ہے۔
انوویٹو اربن ویلج میں رہائشی عمارتوں کے ساتھ عوامی پارک، نرسری اسکول، پرفارمنس آرٹس سینٹر اور تجارتی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔ منصوبے کے مطابق یہاں جدید گرین ٹیکنالوجی، سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز اور آل الیکٹرک ہیٹنگ سسٹم استعمال کیے جائیں گے۔میئر ممدانی نے سستے گھروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر نیویارکر کو محفوظ اور قابلِ استطاعت گھر ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق، حکومت کا مقصد صرف رہائشی عمارتیں تعمیر کرنا نہیں، بلکہ ایسی کمیونٹیز بنانا ہے جہاں خاندانوں کو تعلیم، بچوں کی دیکھ بھال، تفریح اور روزمرہ ضروریات کی سہولیات بھی میسر ہوں۔ممدانی نے اپنے ہاؤسنگ ایجنڈے کے تحت آئندہ دہائی میں نیویارک کے پانچوں بورو میں دو لاکھ نئے سستے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا۔
گورنر کیتھی ہوکل نے اس منصوبے کو ایسٹ نیویارک کے مستقبل کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا۔ دوسری جانب سینیٹ کے ڈیموکریٹک اکثریتی رہنما چک شومر کے مطابق، وفاقی ٹیکس کریڈٹس کے ذریعے اس منصوبے کے لیے 115ملین ڈالر کے وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں بے گھر افراد اور گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے مخصوص رہائشی یونٹس بھی شامل ہیں۔منصوبے کے پہلے مرحلے میں 386 گھروں کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں 453 مزید اپارٹمنٹس کی پیشرفت جاری ہے۔ جبکہ منصوبے کے اگلے حصے میں بزرگ شہریوں کے لیے 206 اپارٹمنٹس سمیت مزید 599 سستے گھروں کی تعمیر بھی شامل بتائی گئی ہے۔مکمل ہونے پر انوویٹو اربن ویلج دس عمارتوں پر مشتمل ایک بڑی رہائشی کمیونٹی بننے کی توقع ہے، جو تقریباً دو ہزار خاندانوں کو رہائش فراہم کرے گی۔