vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں شہریت منسوخی کی بڑی کاروائی،چارپاکستانی سمیت 40 افراد شامل

0

نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں حقائق چھپانےاورغلط معلومات کی فراہمی پر شہریت منسوخی کی تاریخی کاروائی،چار پاکستانی سمیت چالیس افراد کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کےلئےامیگریشن حکام نے وفاقی عدالت سے رجوع کرلیا۔

امریکی محکمہ انصاف نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنےوالے40افراد کے خلاف اہم معلومات چھپانےاورغلط بیانی سےکام لینے پرمختلف وفاقی عدالتوں میں شہریت منسوخی کی کارروائی شروع کردی ہے،ان افرادمیں چار پاکستانی نژادافراد بھی شامل ہیں۔

محکمہ انصاف کےمطابق69سالہ احمد بہارخٹک کومختلف شناختوں کےاستعمال، سابقہ ملک بدری کاحکم کو چھپانےاورامیگریشن فوائد حاصل کرنے کے لیےمعلومات مخفی رکھنے کے الزام پرورجینیا کی وفاقی عدالت میں شہریت منسوخی کی کاروائی کا سامنا ہے۔73سالہ احمد خان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی پاکستانی اہلیہ کےجعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے امریکی شہری سے شادی کرکے اسی بنیاد پر مستقل رہائش اور بعدازاں امریکی شہریت حاصل کی۔

 فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں 66 سالہ سید مسعود الحق کے خلاف دائر مقدمہ میں یہ الزام عائد کیا گیا ہےکہ انھوں نےمختلف شناخت استعمال کرنے، پناہ کی درخواست میں غلط شناخت دینےاورسابقہ امیگریشن کارروائی چھپائی۔ٹیکساس کی وفاقی عدالت دائر مقدمہ کے مطابق جبکہ74 سالہ سید فرقان علی نے پہلی پاکستانی بیوی سے شادی برقرار ہوتے ہوئے طلاق اور سابقہ بیوی کی موت سے متعلق جعلی معلومات کےذریعے امریکی شہری سے شادی کی اور  پھر امیگریشن و شہریت حاصل کرلی۔

محکمہ انصاف کےمطابق شہریت منسوخی کی کاروائی کی فہرست میں میکسیکو سے11،چین سے4، مصر،نائجیریا، فلپائن اور گیا نا سےدودوافراد شامل ہیں۔اس کےعلاوہ بھارت،ایران،کیمرون،کولمبیا،پیرو،سیرالیون،وینزویلا،برطانیہ،کمبوڈیا اورہیٹی سےبھی ایک ایک شخص شامل ہے۔محکمہ انصاف کےمطابق یہ درخواستیں21اگست سے2اکتوبر2026کےدوران دائر کی گئیں اور ٹرمپ انتظامیہ کےدور میں ایک ہی مدت کے دوران دائر کی جانے والی شہریت منسوخی کی درخواستوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.