vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی عدالت نےتارکین وطن پر1.8ملین ڈالرتک جرمانےکی پالیسی روک دی

0

نیویارک (نیوزڈیسک)امریکا میں تارکین وطن کو بھاری جرمانوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی روک دی گئی۔وفاقی عدالت نے 1.8ملین ڈالر تک جرمانے عائد کرنے کے اقدام پر حکم امتناع جاری کردیا۔

رائٹرز کے مطابق بوسٹن کے امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج او ٹول نے دو تارکین وطن کی جانب سے دائر کلاس ایکشن مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے جرمانوں کی وصولی روک دی۔جج جارج او ٹول نے قرار دیا کہ انتظامیہ نے جرمانے غیر قانونی طور پر عائد کیے، جبکہ جرمانوں کی وصولی روکنا ضروری تھا کیونکہ اس سے متاثرہ افراد دیوالیہ پن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

مقدمے میں ان ہزاروں تارکین وطن کے معاملے کو چیلنج کیا گیا تھا جن پر محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے سول جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جولائی میں بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد سے ایک لاکھ 3 ہزار سے زائد جرمانے عائد کیے جاچکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 84 بلین ڈالر بنتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے ڈی پورٹیشن کے احکامات کے باوجود امریکا نہ چھوڑنے والے تارکین وطن پر روزانہ 998 ڈالر جرمانے عائد کرنا شروع کیے تھے۔ یہ جرمانے پانچ سال تک سابقہ مدت کے لیے بھی عائد کیے جاسکتے تھے، جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1.8 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا تھا۔جولائی 2025 میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور امریکی محکمہ انصاف نے جرمانے عائد کرنے کے عمل میں تبدیلی کی تھی، جس میں 30 دن کے نوٹس کی مدت ختم کردی گئی اور جرمانے کو چیلنج کرنے کے عمل کو مختصر کیا گیا۔مقدمہ دائر کرنے والوں نے اس طریقہ کار کے ساتھ ساتھ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر بھی اعتراض کیا، جس پر جرمانے عائد کرنے کے لیے ایسے فارم استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا جن میں ہر فرد کے معاملے کی الگ جانچ نہیں کی گئی۔

جج او ٹول نے قرار دیا کہ جرمانے عائد کرنے کے لیے استعمال کیے گئے فارم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی فرد کے رویے پر جرمانہ کیوں عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ نے پالیسی میں تبدیلی سے قبل عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع نہیں دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.