اسحاق ڈار کی نیویارک میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں
نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل، جرمنی، جنوبی کوریا اور مالدیپ کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے ملاقات میں پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی کردار کو سراہا اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی قریبی شراکت داری کو اہم قرار دیا۔جرمن وزیر خارجہ ی سے ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی روابط اور کاروباری شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ دفاع، تعلیم، ہنرمند افرادی قوت اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔ملاقات میں علاقائی صورتحال اور فلسطین کی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔ اسحاق ڈار نے جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے عالمی کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون سے ملاقات میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ اسحاق ڈار نے کاروباری شعبوں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔مالدیپ کے وزیر خارجہ اروتھیشام آدم سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے تجارت، علاقائی روابط، اقتصادی تعاون، کاروباری روابط، تعلیم اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔چاروں ملاقاتوں میں علاقائی و عالمی امور، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر باہمی تعاون، امن و استحکام اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔