نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے ڈیلیوری کمپنی ڈور ڈیش کے خلاف نیویارک شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی ورکر سیٹلمنٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کمپنی 13 کروڑ 15 لاکھ ڈالر ادا کرے گی۔
ڈپٹی میئر جولی سو اور ڈپارٹمنٹ آف کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن کے کمشنر سیموئل لیوائن کے مطابق یہ سیٹلمنٹ نیویارک شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی ورکر سیٹلمنٹ اور امریکا میں فوڈ ڈیلیوری ورکرز کیلئے اب تک کی سب سے بڑی سیٹلمنٹ ہے۔ حکام کے مطابق اس میں سے 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر براہ راست ڈیلیوری ورکرز کو ملیں گے جبکہ ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر جرمانے اور اخراجات کی مد میں وصول کیے جائیں گے، جس سے 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد ایسے ورکرز کو ریلیف ملے گا جنہیں کم معاوضہ دیا گیا یا بالکل ادائیگی نہیں کی گئی۔ میئر ممدانی نے کہا کہ جب مزدور محنت کرتا ہے تو اسے وقت پر اور پوری اجرت ملنی چاہیے، اور ڈور ڈیش نے 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد ورکرز کو کم ادائیگی کی، جس کی رقم اب واپس دلائی جارہی ہے۔ ڈی سی ڈبلیو پی کے مطابق ادارے نے ڈور ڈیش سے ٹیرا بائٹس ڈیٹا حاصل کرکے 15 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ادائیگی کی ٹرانزیکشنز اور 11 کروڑ کام کے گھنٹوں کا تجزیہ کیا۔ حکام کے مطابق جن ورکرز کو بالکل ادائیگی نہیں ملی، انہیں واجب الادا رقم کی تقریباً 200 فیصد رقم دی جائے گی، مثال کے طور پر جس ورکر کے ایک ہزار ڈالر واجب تھے، اسے 3 ہزار ڈالر ملیں گے۔ سیٹلمنٹ کے تحت ڈور ڈیش کو آئندہ تین سال تک ماہانہ ڈیٹا رپورٹس جمع کروانی ہوں گی، جبکہ ورکرز جسٹس پروجیکٹ اور ورکرز الگورتھم آبزرویٹری کے تعاون سے ایک نیا سافٹ ویئر بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے ورکرز اپنی ٹرپ اور آمدنی کا ڈیٹا براہ راست شہری ادارے کو فراہم کرسکیں گے۔ حکام کے مطابق متاثرہ ورکرز کو اکتوبر کے آخر میں انفرادی ای میلز کے ذریعے ان کی واجب الادا رقم سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ ادائیگیاں رواں خزاں میں شروع ہوں گی۔