اے پی پیک یوتھ ونگ نے اپنا تیسرااسکالر شپ پروگرام لانچ کردیا
تعلیمی میدان میں پاکستانی نژاد امریکی طلبہ کو مزید بہتر مواقعوں کی فراہمی کے لیے ایک اور اہم اقدم۔۔اے پی پیک یوتھ ونگ نے اپنا تیسرااسکالر شپ پروگرام لانچ کردیا۔ پروگرام کےتحت غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل دس طلبا کو اسکالرشپس ایوارڈ دیے گئے۔
نیویارک کے مقامی ریسٹورانٹ میں اے پی پیک یوتھ و نگ اسکالر شپ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی ابتدا تلاوتِ کلام ِ پا ک سے کی گئی ۔اسکالر شپ کانفرنس کی نظامت اے پی پیک یوتھ ونگ کے پریذیڈنٹ علی ملک کررہے تھے جنھوں نے تمام مہمانوں کا تعارف کرایا اور ان کی آمد پر خیر مقدم بھی کیا۔شرکا سے خطاب میں علی ملک نے یوتھ ونگ کی مختلف سرگرمیوں پر مشتمل کار کردگی پیش کی۔تقریب میں اے پی پیک کے چیئر مین ڈاکٹر اعجاز احمد، صدر پرویز اقبا ل، یوتھ ونگ کے ارسل اعجاز سمیت پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمایاں شخصیات اور طلبہ کی کثیر تعداد شریک ہوئی ۔ حاضرین سے خطاب میں ڈاکٹر پرویز اقبال کا کہنا تھا کہ آج خود کو ایک بار نوجوان محسوس کررہا ہوں اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ نوجوان ہماری توقعات سے بڑھ کر کام کررہے ہیں ۔شرکا سے خطاب میں مہمان ِ خصوصی اور ا سٹیٹ سینیٹر جون لو نے اسکالر شپ حاصل کرنے والے طلبا کو مبارکباد دی اور تقریب میں شرکت کو خود کے لیےباعثِ افتخار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے،آئندہ مستبقل کیسا ہوگا اس کا تعین نوجوانوں نے ہی کرنا ہے ۔تقریب میں سفوک کاونٹی میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر راجہ حسن اور این وائے پی ڈی کی مسلم آفیسرز سوسائٹی کے صدر ڈپٹی انسپکٹر وحید اختر بھی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔مقررین نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آج انھیں جو مقام حاصل ہے وہ ان کے والدین کی قربانیوں کا ثمر ہےاسکالر شپ کانفرنس میں اے پی پیک کی نیشنل بورڈ آف ڈائریکٹر کی ممبر اور یوتھ ونگ کی انچار ج ڈاکٹر سعدیہ طاہر اوردیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوتھ ونگ سالانہ اسکالر شپس پروگرام میں طلبہ بلا تفریق رنگ و نسل کے درخواست دے سکتے ہیں، ہمارا یقین ہے کہ اگر طلبہ اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے میں بہت بہتری لاسکتے ہیں ۔تقریب کے اختتام سے قبل اے پی پیک یوتھ ونگ کے پریذیڈنٹ علی ملک ، اریسہ اعجاز اور دیگر یوتھ ونگ کے دیگر ارکان نے دس کامیاب طلبہ کو اسکالر شپس ایوارڈز دیے ۔