عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد امریکی رکن بن گئیں
امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی عائشہ وہاب نےقانون ساز اسمبلی کا انتخاب جیت کر امریکی کانگریس میں جگہ بنا لی ہے اور وہ امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی بن گئی ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق 39 سالہ عائشہ وہاب نے کیلیفورنیا کے 14ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی خصوصی نشست کے لیے ہونے والے انتخاب میں اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والی 51 سالہ اسرائیل نواز امیدوار میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دی۔عائشہ وہاب نے اپنی حریف میلیسا ہرنانڈیز کو 53 فیصد کے مقابلے میں 47 فیصد ووٹوں سے شکست دی۔ وہاب کو 51 ہزار 610 جبکہ ہرنانڈیز کو 45 ہزار 598 ووٹ ملے۔اس کامیابی کے بعد عائشہ وہاب سابق رکنِ کانگریس ایرک سویل کی باقی ماندہ مدت پوری کریں گی، جو جنوری میں ختم ہوگی۔ تاہم ان کی سیاسی دوڑ یہیں ختم نہیں ہوئی، کیونکہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ مکمل دو سالہ مدت کے لیے ایک بار پھر میلیسا ہرنانڈیز کے مدمقابل ہوں گی۔ عائشہ وہاب ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ترقی پسند سیاست دان ہیں۔ ان کے والدین 1980ء کی دہائی میں سوویت افغان جنگ کے دوران افغانستان سے ہجرت کر کے بطور پناہ گزین امریکا آئے تھے۔وہ پہلی بار 2018ء میں ہیورڈ سٹی کونسل کی رکن منتخب ہونے کے بعد امریکا میں کسی بھی عوامی عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی خاتون بنی تھیں۔ 2022 میں وہ کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹر منتخب ہوئیں تو ایوان کی پہلی مسلم اور پہلی افغان نژاد رکن بن گئیں۔