vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی انٹیلی جنس کے سابق اعلیٰ عہدیدار 20 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامند

0

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ قومی انٹیلی جنس کے دفتر کی سابق چیف آپریٹنگ افسر ڈیئرڈرے والش نے سرکاری ملازمت چھوڑنے کے بعد عائد پابندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے تصفیے کے لیے 20 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

محکمہ انصاف کے مطابق سابق عہدیدار نے ملازمت چھوڑنے کے بعد ایک سال کی پابندی کے دوران اپنے نجی ادارے کی جانب سے قومی انٹیلی جنس کے دفتر کے ایک اہلکار سے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے مالی مطالبے سے متعلق رابطہ کیا، جو وفاقی قوانین کے تحت ممنوع تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہونے والے افراد پر عائد پابندیوں کا مقصد سرکاری اداروں پر ناجائز اثر و رسوخ کو روکنا اور حکومتی نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔محکمہ انصاف نے واضح کیا کہ یہ معاملہ باہمی تصفیے کے ذریعے نمٹایا گیا ہے اور اس معاہدے کو قانونی ذمہ داری یا جرم کے اعتراف کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.