پرواز کے دوران سست اور مہنگا انٹرنیٹ اب ماضی کی بات بنتا جا رہا ہے۔ اسپیس ایکس کے اسٹار لنک سیٹلائٹ نیٹ ورک نے فضائی سفر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کا انقلاب برپا کر دیا ہے اور خلیجی ایئر لائنز اسے اپنانے میں سب سے آگے آگئی ہیں۔
دنیا بھر میں 37 سے زائد ایئر لائنز اسٹار لنک سے منسلک ہو چکی ہیں اور 2026 کے وسط تک 41 ایئر لائنز اسے مکمل یا جزوی طور پر نافذ کر چکی ہیں۔خلیج میں ایمریٹس اور قطر ایئرویز نے تمام مسافروں کے لیے اسٹار لنک وائی فائی مکمل طور پر مفت کر دی ہے جبکہ گلف ایئر اور فلائی دبئی بھی اپنے پورے بیڑے میں اس سہولت کو پھیلانے کے عمل میں ہیں۔ روایتی انٹرنیٹ کے برعکس اسٹار لنک زمین سے چند سو کلومیٹر کی کم بلندی پر موجود سیٹلائٹس کے ذریعے کام کرتا ہے جس سے سگنل کی رفتار تیز، تاخیر کم اور بینڈوڈتھ اتنی وسیع ہوتی ہے کہ تمام مسافر بیک وقت ویڈیو اسٹریمنگ کر سکتے ہیں۔ ایمریٹس نے 14 مئی 2026 تک اپنے 33 طیاروں میں یہ ٹیکنالوجی نصب کر دی ہے اور مستقبل میں 232 طیاروں تک توسیع کا منصوبہ ہے جبکہ اس نے دنیا کا پہلا اسٹار لنک سے لیس ایئربس اے 380 چلانے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔ قطر ایئرویز مینا خطے کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے اسٹار لنک متعارف کروایا اور یہ سہولت بوئنگ 777، ایئربس اے 350 اور منتخب بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں میں تمام مسافروں کے لیے مفت دستیاب ہے۔ بحرین کی قومی ایئر لائن گلف ایئر نے مئی 2026 میں اپنی پہلی اسٹار لنک پرواز شروع کی اور ایئربس اے 320 نیو، اے 321 نیو اور بوئنگ 787-9 طیاروں میں تمام کلاسوں کے مسافروں کو لامحدود مفت وائی فائی فراہم کی جا رہی ہے۔ فلائی دبئی نے 2025 میں اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اپنے پورے بوئنگ 737 بیڑے میں اسٹار لنک نصب کرنے کا کام جاری ہے جو تمام مسافروں کے لیے مکمل مفت ہوگی۔