امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے گرین کارڈ حاصل کرنے کے قوانین مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب امریکا میں موجود زیادہ تر غیر ملکی صرف “غیر معمولی حالات” میں ہی اسٹیٹس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کر سکیں گے۔
نئی پالیسی کے مطابق طلبہ، عارضی ملازمین، سیاحتی ویزا رکھنے والے اور دیگر نان امیگرنٹ افراد کو گرین کارڈ کے لیے اپنے آبائی ملک جا کر امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو قانون کے اصل مقصد کے مطابق چلانا اور غیر قانونی قیام کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان زیک کاہلر نے کہا کہ امریکا آنے والے عارضی ویزا ہولڈرز کا قیام محدود مدت اور مخصوص مقصد کے لیے ہوتا ہے، اس لیے ان کا امریکا میں رہنا گرین کارڈ کے عمل کا پہلا مرحلہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی سے امیگریشن نظام زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔حکام نے مزید کہا کہ زیادہ تر کیسز محکمہ خارجہ کے ذریعے بیرون ملک نمٹانے سے یو ایس سی آئی ایس اپنے وسائل دیگر اہم معاملات، جیسے شہریت کی درخواستوں، انسانی اسمگلنگ اور پرتشدد جرائم کے متاثرین کے ویزوں پر زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکے گا۔