vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا کا نیا ویزا قانون، خوف ظاہر کرنے والوں کے لیے مشکلات

0

امریکا نے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت عارضی ویزا کے درخواست گزاروں سے اب یہ تصدیق لی جائے گی کہ انہیں اپنے ملک واپس جانے سے کوئی خوف نہیں۔ 

اگر کوئی درخواست گزار یہ کہتا ہے کہ اسے اپنے ملک میں نقصان یا خطرہ لاحق ہے، یا وہ اس سوال کا جواب دینے سے انکار کرتا ہے، تو اس کے ویزا مسترد ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہو جائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی اس ہدایت میں قونصلر افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ انٹرویو کے دوران دو اہم سوالات لازمی پوچھیں: کیا درخواست گزار کو اپنے ملک میں نقصان یا بدسلوکی کا سامنا رہا ہے؟ اور کیا وہ اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ ہے؟ ان سوالات کے جوابات ویزا کے فیصلے میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو ویزا حاصل کرنے کے لیے اپنی اصل نیت چھپاتے ہیں اور بعد میں امریکا پہنچ کر پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ ہدایت نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ ویزا عمل کے دوران غلط بیانی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ نظام ان کی درست جانچ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص حقیقت میں خوف کا شکار ہو لیکن ویزا حاصل کرنے کے لیے غلط جواب دے، تو اسے سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں مستقل طور پر امریکا داخلے پر پابندی بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.