یورپی ملک ناروے نے تعلیمی سال 2026–2027 کے لیے بین الاقوامی طلبہ کو بغیر آئیلٹس اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بڑا موقع فراہم کر دیا ہے، جہاں مختلف پروگرامز کے تحت مکمل فنڈڈ اسکالرشپس دی جا رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ان اسکالرشپس میں ٹیوشن فیس، رہائش، ہوائی سفر، ویزا اخراجات اور ماہانہ وظیفہ شامل ہے، جس کے باعث طلبہ بغیر مالی بوجھ کے عالمی معیار کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ناروے کی جامعات اپنی اعلیٰ تحقیق، جدید نظام تعلیم اور طلبہ دوست ماحول کی وجہ سے دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔حکام کے مطابق کئی جامعات میں آئیلٹس لازمی نہیں، بلکہ طلبہ اپنی سابقہ تعلیم اگر انگریزی میں مکمل کر چکے ہوں یا متعلقہ ادارے کا سرٹیفکیٹ فراہم کریں تو داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سہولت سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے طلبہ کو فائدہ پہنچے گا۔یہ اسکالرشپس بیچلر، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف تعلیمی سطحوں کے لیے دستیاب ہیں، جن میں ماحولیات، انجینئرنگ، صحت، آئی ٹی اور سوشل سائنسز جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ موقع طلبہ کے لیے نہ صرف تعلیمی بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔