آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے پیش نظر برطانیہ کی قیادت میں تیس سے زائد ممالک کا ایک اہم اتحاد سرگرم ہو گیا ہے، جس کا مقصد اس عالمی گزرگاہ کو دوبارہ کھلوانا اور جہاز رانی کی آزادی بحال کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس حوالے سے ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے مطابق اجلاس میں مختلف ممالک اس بات پر غور کریں گے کہ کس طرح سفارتی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں اور عملے کو محفوظ بنایا جائے اور عالمی تجارت کو بحال کیا جائے۔رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث اس اہم سمندری راستے پر بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ اس گزرگاہ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لے گا، جس کے بعد اتحادی ممالک پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت پینتیس ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں ختم کرے، جبکہ برطانوی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کا حل آسان نہیں اور اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہوگی۔