امریکا میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث کئی ایئرپورٹس پر سیکیورٹی چیکنگ کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جس کے بعد ماہرین کی جانب سے ایئرپورٹ سیکیورٹی کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی تجویز دوبارہ زیر بحث آ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس حوالے سے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جہاں سیکیورٹی چیکنگ نجی کنٹریکٹرز کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن نگرانی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے پاس رہتی ہے۔ اس نظام کے تحت سیکیورٹی عملے کی تنخواہیں وفاقی کنٹریکٹ کے ذریعے جاری رہتی ہیں، جس سے حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران بھی سیکیورٹی نظام متاثر نہیں ہوتا۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی نظام کی نجکاری سے منافع کو ترجیح دی جا سکتی ہے جس سے مسافروں کی حفاظت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے ملازمین کی نمائندہ یونین بھی اس اقدام کی مخالفت کرتی ہے اور اسے ملازمین کی مراعات اور ملازمت کے تحفظ کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہے۔ادھر سفری صنعت سے وابستہ تنظیموں نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ ایسے قوانین منظور کیے جائیں جن کے تحت ایوی ایشن کے ضروری ملازمین کو حکومتی فنڈنگ میں تعطل کے باوجود تنخواہیں ملتی رہیں تاکہ ایئرپورٹس اور فضائی سفر کا نظام متاثر نہ ہو۔