مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائیاں صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکا کی افواج تعینات ہیں، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں۔
قطر نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور مختلف اقسام کے ڈرون موجود ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی فضائیہ کی محدود صلاحیت کے باوجود دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جن کی حدِ مار تقریباً ایک سو پچاس سے آٹھ سو کلومیٹر تک ہے۔درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی ایران کی عسکری طاقت کا اہم حصہ ہیں۔ ان میزائلوں کی حدِ مار تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار کلومیٹر تک ہے۔ایران کے کروز میزائل بھی اس کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ میزائل زمین کے قریب پرواز کرتے ہیں اور اکثر ریڈار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایران کے پاس سومار، یا علی، قدس اور حویظہ جیسے کروز میزائل موجود ہیں جن میں سومار کی حدِ مار تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی بھی ایران کی عسکری حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ ڈرون میزائلوں کے مقابلے میں نسبتاً سست رفتار ہوتے ہیں لیکن انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو محفوظ بنانے کے لیے ملک بھر میں زیر زمین سرنگیں، خفیہ اڈے اور محفوظ لانچنگ مقامات بھی قائم کیے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی حملے کے بعد ایران کی تمام میزائل صلاحیت کو فوری طور پر ختم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ایران بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائل، بحری بارودی سرنگیں، ڈرون اور تیز رفتار جنگی کشتیاں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔