vosa.tv
Voice of South Asia!

مشرق وسطیٰ میں سیاحت کی صنعت کو جنگ نے کیسے متاثر کیا ہے؟

0

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خطے کی سیاحتی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور پروازوں کی منسوخی، سفر کے منصوبوں کی منسوخی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک اہم اور مقبول منزل بن چکا تھا، تاہم موجودہ جنگی صورتحال نے اس شعبے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔اردن کے شمالی شہر اربد کے قریب سیاحتی رہنما نزیہ رواشدہ کا کہنا ہے کہ مارچ کے لیے طے شدہ باقی تمام سیاحتی گروپ منسوخ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سیاحت کے سیزن کا آغاز ہوتا ہے لیکن موجودہ صورتحال اس شعبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔دوسری جانب دنیا بھر کی سیاحتی کمپنیوں نے خطے میں موجود یا وہاں سفر کا ارادہ رکھنے والے سیاحوں کے لیے متبادل انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ایک فرانسیسی سیاحتی کمپنی کے سربراہ ایلین کیپیسٹن کے مطابق اس وقت سب سے اہم کام یہ ہے کہ خطے میں موجود سیاحوں کو محفوظ طریقے سے اپنے گھروں تک واپس پہنچایا جائے۔ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات صرف مقامی سیاحت تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی فضائی سفر بھی متاثر ہو رہا ہے کیونکہ دبئی، ابوظہبی اور دوحہ عالمی ہوابازی کے اہم مراکز ہیں۔کئی یورپی سیاحتی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے اپنے صارفین کے اضافی قیام کے اخراجات وہ خود برداشت کریں گی جبکہ متحدہ عرب امارات اور عمان کے سفر عارضی طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ایک کروز کمپنی نے بتایا ہے کہ دبئی میں موجود اپنے جہاز کے تقریباً ایک ہزار مسافروں کو نکالنے کے لیے پانچ چارٹر پروازیں بھیجی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ طریقے سے خطے سے باہر منتقل کیا جا سکے۔برطانیہ کی ٹریول انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق سفری ایجنسیاں اس وقت تک اپنے صارفین کو اس خطے میں نہیں بھیجیں گی جب تک غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات واپس نہیں لی جاتیں، جبکہ منسوخ ہونے والی بکنگ رکھنے والے افراد کو رقم کی واپسی یا نئی تاریخ پر سفر کی سہولت دی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سیاحت کے مطابق سنہ دو ہزار پچیس میں تقریباً دس کروڑ سیاحوں نے مشرقِ وسطیٰ کا رخ کیا تھا جو عالمی سطح پر بین الاقوامی سیاحوں کا تقریباً سات فیصد بنتا ہے۔ماہرین کے مطابق سیاحت کے شعبے میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس لیے سیاحوں کی آمد میں کمی خطے کی معیشت اور روزگار پر بھی نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے، تاہم ماہرین کو امید ہے کہ خطے میں استحکام بحال ہوتے ہی سیاحت کی طلب دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.