ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایران میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی وفات پر ملک بھر میں تعزیتی اجتماعات اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کی سب سے بااختیار شخصیت اور اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ تھے، جو 1989 سے ملک کی اعلیٰ ترین قیادت سنبھالے ہوئے تھے۔ سپریم لیڈر کے طور پر وہ مسلح افواج کے سربراہ، خارجہ و دفاعی پالیسی کے اصل فیصلہ ساز اور ریاستی نظام کے اہم اداروں پر اثر و اختیار رکھتے تھے۔1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے دینی تعلیم حاصل کی اور 1979 کے ایرانی انقلاب میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر بھی رہے اور خمینی کی وفات کے بعد انہیں رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ ان کے دور میں ایران کی علاقائی پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی اور ایٹمی پروگرام مرکزی حیثیت رکھتے رہے۔امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کی بڑی وجہ ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور ان گروہوں کی حمایت تھی جنہیں مغربی ممالک “مزاحمتی نیٹ ورک” قرار دیتے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور دیگر علاقائی اتحاد اسی پالیسی کا حصہ سمجھے جاتے تھے، جس کے باعث ایران اور مغربی اتحادیوں کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھتا رہا۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے اسی طویل عرصے سے جاری اسٹریٹجک کشیدگی، ایران کی دفاعی و جوہری سرگرمیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی کشمکش کے تناظر میں کیے گئے۔ خامنہ ای کی قیادت نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی طاقت کے توازن اور عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔