ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے بعد خطے اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کراچی میں نمائش چورنگی پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور مختلف مقامات پر دھرنوں کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق مرکزی راستے بند کر کے شہریوں کو متبادل راستوں کی طرف موڑا جا رہا ہے تاکہ شہر میں نظامِ آمدورفت مکمل طور پر معطل نہ ہو۔ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جہاں مظاہرین حساس گرین زون کی جانب بڑھ گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی صورتحال دیکھنے میں آئی جبکہ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات اور سوگ کی تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔امریکا کے شہر نیویارک میں بھی بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ عالمی سطح پر اس واقعے کے بعد سیاسی اور عوامی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔