امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ان کی جگہ امیگریشن سے متعلق سخت مؤقف رکھنے والے اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ اعلان کیا۔ یہ فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہوئی۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تبدیلی چاہتے تھے اور سوزی وائلز نے اپنے عہدے پر اچھا کام کیا ہے، تاہم اب اسٹیفن ملر کو ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔سوزی وائلز نے اپنے عہدے سے رخصت ہونے پر کہا کہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دینا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا۔ انہوں نے سرحدی سکیورٹی، ٹیکسوں میں کمی، معیشت کو مضبوط بنانے اور امریکہ کو اولین ترجیح دینے سے متعلق حکومتی اقدامات کا حصہ رہنے پر فخر کا اظہار کیا۔رپورٹ کے مطابق سوزی وائلز کو چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم انہوں نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ سرطان سے صحت یاب ہو چکی ہیں دی گارڈین کے مطابق ان تبدیلیوں کے بعد ٹرمپ کابینہ میں خواتین کی تعداد محدود رہ گئی ہے، جن میں وزیر زراعت بروک رولنز اور اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن کی سربراہ کیلی لوفلر شامل ہیں۔