امریکہ میں ویزاحاصل کرنے کے لیے جعلی ڈکیتیوں کا ڈرامہ
شکاگو (نیوزڈیسک)امریکہ میں ویزا حاصل کرنے کے لیے فراڈ کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں لوگوں کو امریکہ کا ویزا دلوانے کے لیے دکانوں اور ریسٹورنٹس میں سینکڑوں جعلی ڈکیتیاں کروائی گئیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ فراڈ شکاگو اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کیا گیا۔اس منصوبے کا مرکزی کردار پارٹھ نائی نامی شخص تھا، جو لوگوں کو جعلی ڈکیتیوں میں متاثرہ شخص ظاہر کرنے میں مدد دیتا تھا۔اس فراڈ کا طریقہ انتہائی حیران کن تھا۔کچھ افراد دکانوں میں ڈاکو بن کر داخل ہوتے، اسلحہ دکھاتے اور ڈکیتی کا ڈرامہ کرتے۔ دوسری طرف ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو دکان کا متاثرہ ملازم یا وہاں موجود گاہک ظاہر کیا جاتا تھا۔
اس کے بعد انہیں پولیس کے سامنے بیان دینے اور ضروری کاغذات تیار کرنے کا طریقہ بتایا جاتا تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ امریکہ میں کسی سنگین جرم کا شکار ہوئے ہیں۔اس سارے ڈرامے کا مقصد امریکہ کا خصوصی یو ویزا حاصل کرنا تھا۔یہ ویزا دراصل ایسے غیر ملکی افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو امریکہ میں کسی سنگین جرم کا شکار ہوں اور پولیس یا تفتیشی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔لیکن اس فراڈ میں لوگوں نے خود کو جعلی طور پر جرائم کا شکار ظاہر کیا تاکہ وہ یہ ویزا حاصل کر سکیں۔امریکی حکام کے مطابق ہزاروں افراد نے اس کام کے لیے پارٹھ نائی کو رقم ادا کی۔ بعض افراد سے پانچ ہزار سے 30 ہزار ڈالر تک وصول کیے گئے۔یعنی ایک شخص سے امریکی ویزا حاصل کرنے کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے تھے۔اس جعلی ڈکیتی کے دوران ایک خطرناک واقعہ بھی پیش آیا، جب ایک دکان میں فائرنگ سے وہاں کام کرنے والا ایک ملازم شدید زخمی ہو گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فراڈ 2022 سے 2024 کے دوران جاری رہا۔اس کیس میں پارٹھ نائی سمیت چھ افراد کے نام سامنے آئے، جبکہ پارٹھ نائی نے عدالت میں اپنا جرم تسلیم کیا۔امریکی عدالت نے پارٹھ نائی کو دو سال قید اور 50 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فراڈ سے ان لوگوں کے لیے بنائے گئے ویزا پروگرام کو نقصان پہنچا ہے جو واقعی جرائم کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں قانونی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔