سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 25ویں عالمی توانائی کانگریس کا انعقاد جاری ہے، جس میں توانائی کے مستقبل، تیل و گیس کی عالمی منڈیوں اور توانائی کے تحفظ سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ کانگریس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک ہیں۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں 25ویں عالمی توانائی کانگریس 11 سے 15 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ سعودی عرب پہلی مرتبہ اس عالمی کانگریس کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مرکزی موضوع ’’سب کے لیے توانائی کے مستقبل کی راہیں‘‘ ہے۔کانگریس میں توانائی کے شعبے سے وابستہ وزرا، عالمی کمپنیوں کے سربراہان، ماہرین اور پالیسی ساز شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران تیل و گیس کی عالمی منڈی، توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث ہیں۔سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے خطاب کرتے ہوئے توانائی کے تحفظ اور عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ علاقائی کشیدگی اور ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کے باوجود کانگریس کا انعقاد جاری ہے، تاہم سفری مشکلات کے باعث بعض عالمی توانائی کمپنیوں کے سربراہان شرکت نہیں کر سکے۔وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی کانگریس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون اور خطے میں دیرپا توانائی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔کانگریس کا مقصد توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنا ہے۔