امریکا میں وفاقی میڈیکیڈ فنڈنگ میں کٹوتیوں کے باعث زچہ و بچہ وارڈز بند ہونا شروع ہوگئے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ سال مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
غیرمنافع بخش ادارے پروٹیکٹ آور کیئر کے تجزیے کے مطابق جولائی 2025 میں ایچ آر ون بل کے اعلان کے بعد سے اب تک 52 زچہ و بچہ وارڈز بند ہوچکے ہیں، جبکہ 8 مزید کی بندش کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قانون نئے سال میں مکمل طور پر نافذ ہوگا، جس کے تحت میڈیکیڈ پر انحصار کرنے والے بالغ افراد کیلئے نئی ورک شرائط اور زیادہ بار اہلیت کی جانچ لازمی ہوگی، جبکہ ریاستوں کیلئے وفاقی فنڈنگ بھی کم ہوجائے گی۔ ورجینیا کے سینٹرا ساؤتھ سائیڈ کمیونٹی اسپتال اور جارجیا کے دیہی علاقے میں واقع سینٹ میریز سیکرڈ ہارٹ اسپتال سمیت کئی اسپتال پہلے ہی اپنے زچہ و بچہ وارڈز مستقل طور پر بند کرچکے ہیں۔ مارچ آف ڈائمز کی سینئر ڈائریکٹر ایرن جونز کے مطابق فنڈنگ میں کمی سے دیہی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، جہاں 31 خطرے سے دوچار دیہی اسپتالوں کی بندش سے 96 کاؤنٹیز میں زچگی کی سہولت ہی باقی نہیں رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں تقریباً 40 فیصد بچوں کی پیدائش کے اخراجات میڈیکیڈ ادا کرتا ہے، جبکہ امریکا میں زچگی کے دوران اموات کی شرح امیر ممالک میں سب سے زیادہ ہے، یعنی ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 17.9 اموات۔