نیویارک(نیوزڈیسک) سٹی کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ اسکول اسٹاف کی مبینہ جنسی بدسلوکی کے الزامات پر امریکی محکمہ تعلیم نے وفاقی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تحقیقات میں تقریباً 2 ہزار مبینہ واقعات سے متعلق شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔
نیو یارک پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ تعلیم نے نیویارک سٹی کے پبلک اسکولز میں طلبہ کے تحفظ سے متعلق ایک اہم وفاقی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔تحقیقات میں یہ جانچا جائے گا کہ آیا نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن نے اساتذہ، اسکول منتظمین اور دیگر ملازمین کے خلاف جنسی ہراسانی یا بدسلوکی کی شکایات پر قانون کے مطابق بروقت اور مناسب کارروائی کی یا نہیں۔
امریکی محکمہ تعلیم کے مطابق تقریباً 2 ہزار مبینہ واقعات سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جن ملازمین پر الزامات لگے، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔وفاقی حکام خاص طور پر یہ جانچ کریں گے کہ کیا شکایات کا سامنا کرنے والے بعض ملازمین کو مناسب کارروائی کے بغیر استعفیٰ دینے کی اجازت دی گئی یا وہ الزامات کے باوجود اسکولوں میں ملازمت کرتے رہے۔یہ تحقیقات ٹائٹل نائن کے تحت کی جارہی ہیں۔
یہ امریکی وفاقی قانون تعلیمی اداروں میں جنسی امتیاز اور جنسی ہراسانی سے متعلق طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق اگر نیویارک سٹی کے اسکولز ٹائٹل نائن کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تو انہیں اصلاحی اقدامات کرنا ہوں گے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں وفاقی فنڈنگ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔دوسری جانب نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی شکایت کا جائزہ لے رہا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور بدسلوکی کے الزامات پر مناسب کارروائی کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔وفاقی تحقیقات کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ طلبہ کی جانب سے سامنے آنے والی شکایات پر نیویارک کے سرکاری اسکولوں نے ماضی میں کس حد تک قانون کے مطابق کارروائی کی، اور آیا موجودہ نظام طلبہ کے تحفظ کے لیے کافی ہے یا نہیں۔