vosa.tv
Voice of South Asia!

 ٹرمپ انتظامیہ کو میکسیکو سرحد پر پناہ گزینوں کو روکنے کی اجازت

0

امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امریکا-میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو امریکی سرزمین میں داخل ہونے سے روکنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے امریکی پناہ گزین نظام میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔

6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے ہونے والے فیصلے کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کی متنازع "ٹرن بیک” یا "میٹرنگ” پالیسی بحال کر دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت سرحدی اہلکار تارکین وطن کو امریکی حدود میں قدم رکھنے سے پہلے ہی روک سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ امریکا میں پناہ کی درخواست دینے کے قانونی حق سے محروم ہو جائیں گے۔اکثریتی فیصلے میں جسٹس سیموئیل الیٹو نے کہا کہ کوئی شخص اس وقت تک کسی جگہ "پہنچا ہوا” نہیں سمجھا جا سکتا جب تک وہ عملی طور پر اس جگہ میں داخل نہ ہو جائے۔ تاہم اختلافی نوٹ میں جسٹس سونیا سوٹومیئر نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ حکومت کو ایسے افراد کو بھی واپس بھیجنے کی اجازت دے گا جو ظلم و ستم، تشدد یا موت کے خطرے سے بچنے کے لیے امریکا کا رخ کر رہے ہوں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بین الاقوامی اور امریکی پناہ گزین قوانین کمزور ہوں گے اور ہزاروں افراد خطرناک حالات میں پھنس سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد سرحدی راستوں پر انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔یہ مقدمہ 2017 میں دائر کیا گیا تھا اور اس نے تین مختلف امریکی صدور کے ادوار کا احاطہ کیا۔ سابق صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس پالیسی کو ختم کر دیا تھا، تاہم ٹرمپ کی واپسی کے بعد انتظامیہ نے عدالت سے اس پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی تھی۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی پہلے ہی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی پناہ کے متلاشی خاندانوں اور کمزور افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.