ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” میں سوار 17 امریکی شہریوں کو اسپین سے خصوصی پرواز کے ذریعے امریکا منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں نیبراسکا کے خصوصی قرنطینہ مرکز میں طبی نگرانی میں رکھا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بحری جہاز اسپین کے جزیرے ٹینیرائف پہنچا جہاں تمام مسافروں کو اتار لیا گیا۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کی میڈیکل ٹیموں نے مسافروں سے ان کے ممکنہ وائرس ایکسپوژر کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔ حکام کے مطابق اب تک کسی بھی امریکی مسافر میں ہنٹا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔سی ڈی سی کے قائم مقام ڈائریکٹر جے بھٹاچاریہ نے کہا کہ مسافروں کے امریکا پہنچنے کے بعد ان کے خطرے کی سطح کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی شخص کا متاثرہ مریض سے قریبی رابطہ نہیں رہا تو اسے کم خطرے میں شمار کیا جائے گا، جبکہ قریبی رابطے والے افراد کو درمیانے یا زیادہ خطرے کی فہرست میں رکھا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال کورونا وبا جیسی نہیں اور عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جو طریقہ کار کامیاب رہا، اسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔سی ڈی سی نے جمعے کو امریکی ڈاکٹروں اور صحت کے اداروں کے لیے ہیلتھ الرٹ بھی جاری کیا تھا جس میں ہینٹا وائرس کی علامات اور احتیاطی تدابیر سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی۔